دِل کو کِھلونا جان کے تم کھیلتے رہے
Poet: UA By: uzma ahmad, Lahoreدل کو کھلونا جان کے تم کھیلتے رہے
اور ہم تمہارا کھیل دل پر جھیلتے رہے
کھیلنے کی چیز ہے جی جان سے کھیلو
دل بھی ہمارا ہے، تمہارا مان سے کھیلو
دل کو کھلونا جان کے تم کھیلتے رہو
دل ہمارے تم یہ کھیل جھیلتے رہو
لیکن ذرا دھیان سے نازک ہیں آپ اور
کانٹا سی نہ چبھ جائیں کہیں کرچیاں منہ زور
شیشے کے دل کو ہاتھ میں کیسے اچھالو گے
ٹوٹا تو بکھری کرچیاں کیسے سنبھالو گے
ہم کو ہمارے دل کی نہیں فکر تمہاری ہے
مسکان تمہاری ، ہماری جان سے پیاری ہے
یہ سوچ کر تمہارے کرم جھیلتے رہے
ہم جھیلتے رہے تم کھیلتے رہے
دل کو کھلونا جان کے تم کھیلتے رہے
اور ہم تمہارا کھیل دل پر جھیلتے رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






