دکھ شمار کریں

Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.A

دکھ شمار کریں تو سانس اکھڑ جاتی ہے
خوابوں کو راکھ کریں تو بستی اجڑ جاتی ہے

وہ جو احساس تھا ہتھیلی پے سجا رکھا ہے
کٹ جائیں ہاتھ تو قسمت بھی بدل جاتی ہے

ایسی وحشت ہے کہ جسکا کوئی مداوا ہی نہں
معجزے کی آس پے ہر شام گزر جاتی ہے

اجاڑے شہر اور گلیوں میں کیا ماتم برپا
کیا ہے اب انکی سزا منصف پے نظر جاتی ہے

جلتے ارمانوں کو دیواروں پے سجا رکھا ہے
دھوپ کی شدت سے میری جان بھی جل جاتی ہے

ناں جلاؤ شمع کو اور پھول بھی مت لاؤ
روشنی آنکھ میں آے تو پگھل جاتی ہے

مانگ میں راکھ ہے تو آنچل کو لگا چاند گرہن
رات کی سیاھی اسے اور بھی ویراں کر جاتی ہے

Rate it:
Views: 497
26 Dec, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL