دکھا کر مجھ کو چشم مست مستانہ بنا ڈالا

Poet: اقبال By: اقبال, Faisalabad

دکھا کر مجھ کو چشم مست مستانہ بنا ڈالا
پلا کر آج ساقی تو نے دیوانہ بنا ڈالا

قیام یاد خوباں کو ترقی دے خدا اس نے
مرے اجڑے ہوئے دل کو پری خانہ بنا ڈالا

دل صد چاک میرا تھا بھلا کس کام کے قابل
مگر اک شوخ نے لے کر اسے شانا بنا ڈالا

ضرر پہنچا نہ مے خانے کو کچھ سنگ حوادث سے
اگر ٹوٹی کوئی بوتل تو پیمانہ بنا ڈالا

غضب جادو بھری ہوتی ہیں آنکھیں حسن والوں کی
نظر جس سے ملائی اس کو دیوانہ بنا ڈالا

تمنا وصل کی دل سے جو نکلی یہ خیال آیا
کہ اک آباد گھر کو ہائے ویرانہ بنا ڈالا

وہ میکش ہوں کہ ہر دم شیشہ و ساغر ہے ساتھ اپنے
جہاں بیٹھا وہیں پر ایک مے خانہ بنا ڈالا

خیال بادہ نوشی فرقت ساقی میں جب آیا
بنایا دل کو خم آنکھوں کو پیمانہ بنا ڈالا

خدا کے فضل سے آفاقؔ تھا فرزانہ و عاقل
نوازش کی بتوں نے اس کو دیوانہ بنا ڈالا

Rate it:
Views: 178
06 Aug, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL