دھندلی سی تحریر ہوں

Poet: Abid Shakil Farooqui By: Abid Shakil Farooqui, Karachi

گمشدہ اوراق کی دھندلی سی تحریر ہوں
لمحہء گم گشتہ کی ناکردہ اک تقصیر ہوں

شاخ ہوں کمزور سی اور پھول کملایا ہوا
گلشن برباد کی اک انکہی تفسیر ہوں

ہر طرف ہےعشق کے ماروں کا اک جم غفیر
ہر مریض عشق کے احساس کی تشہیر ہوں

یہ خزاں سے آشنائی کا اثر ہے کیا کروں
زرد چہرہ بال بکھرے یاس کی تصویر ہوں

کیا عجب کہ ایک ہی جھونکے میں نیچےآپڑے
اک شکستہ سائباں ہوں نیم جاں شہتیر ہوں

زندگی کی خود پرستی نفس کی آوارگی
عالم فانی کی میں لا فانی اک تصویر ہوں

ربط سے عاری لکیریں انکہی بے رنگ سی
زندگی کے کینوس پہ دل کی اک تصویر ہوں

Rate it:
Views: 1399
23 May, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL