دھوپ تھی سائبان تھا ہی نہیں

Poet: طارق By: طارق, Attock

دھوپ تھی سائبان تھا ہی نہیں
میرا کوئی مکان تھا ہی نہیں

میں جہاں جا کے لوٹ آیا ہوں
اس کے آگے جہان تھا ہی نہیں

تم مجھے چھوڑ بھی تو سکتے ہو
یہ تو مجھ کو گمان تھا ہی نہیں

آپ روئے تھے کیوں بچھڑتے ہوئے
کچھ اگر درمیان تھا ہی نہیں

کیسے مشکل کا سامنا کرتے
حوصلہ جب چٹان تھا ہی نہیں

وقت اتنا برا بھی آئے گا
یہ کسی کو گمان تھا ہی نہیں

حال دل کس کے سامنے رکھتے
جب کوئی مہربان تھا ہی نہیں

اس زمانے نے کر دیا پتھر
ورنہ میں سخت جان تھا ہی نہیں

اس پہ سب کچھ لٹا دیا عاقبؔ
جو مرا قدردان تھا ہی نہیں

Rate it:
Views: 202
06 Aug, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL