دھوپ چھاؤں جیسا اسکا مزاج ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreدھوپ چھاؤں جیسا اسکا مزاج ہے
میرا ستم گر ہی میرا چارہ ساز ہے
وفا بھی جتاتا ہے بیوفاؤں کی طرح
جفائیں دکھاتا ہے کج اداؤں کی طرح
اپنوں سے سوا اپنا بیگانہ بھی وہی
ناآشنا ہو کر بھی ناآشنا وہی
شکریہ ----- نظر میں ہے
دل میں ----- گلہ بھی ہے
نامہرباں سہی وہ میرا مہرباں بھی ہے
میرا ہمنوا ہے وہ ہی میرا دمساز ہے
دھوپ چھاؤں جیسا اسکا مزاج ہے
میرا ستم گر ہی میرا چارہ ساز ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






