دھوپ کے تاؤ سے سحر کو جانا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiدھوپ کے تاؤ سے سحر کو جانا
تمہیں کیسا لگا تھا وہ بہر کو جانا
نگری نگری دھواں اٹھتے رہے
اب کہ آگ لگی ہے نہ شہر کو جانا
عالم کی صدا پہلے پہنچی شاید
مجھے تقدیر نے کہا ذرا ٹھہر کے جانا
تعظیم کی غالبی اب بھی کہتی ہے کہ
ہر روز بندگی لیئے بت گھر کو جانا؟
ان اشکوں سے ارضی آباد کروں گا
پھر کیوں نہ پڑے گا بنجر کو جانا
تسکین تک بھی نہیں مل سکا
ظالم کو راس آگیا مؤثر کو جانا
یوں شب ڈھلتی ہے تیری یاد لیئے
فکر سے لگتا ہے پھر عمر کو جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






