دہاڑی رکھتا ہے

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

وہ اپنے کاندھے پہ اب تک کُہاڑی رکھتا ہے
مگر وہ دوست ہی سارے کِھلاڑی رکھتا ہے

بس اِتنی بات پہ بِیوی خفا ہے شوہر سے
کہ ماں کے ہاتھ پہ لا کر دِہاڑی رکھتا ہے

ابھی تو قبر بھی محفُوظ نا رہی، اِنساں
کِسی کو دفن جو کرتا ہے، جھاڑی رکھتا ہے

ہزار تِیس ہے اُس کی پگھار جانتا ہُوں
کمال ہے کہ وہ اِس میں بھی گاڑی رکھتا ہے

اُتارا شِیشے میں اُس نے، فریب دے کے مُجھے
وُہ ایک شخص جو خُود کو اناڑی رکھتا ہے

بنا لِیا ہے جو کچّا مکاں کِسی نے یہاں
(وہ جھونپڑا بھی اگر ہے تو) ماڑی رکھتا ہے

کبھی رشِید کے من کو ٹٹول کر دیکھو
یہ دِل کا موم ہے، چہرہ پہاڑی رکھتا ہے
 

Rate it:
Views: 334
19 Nov, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL