دہشت گردئ
Poet: perwaz hussain salaar By: perwaz hussain, lahoreجوتی نہیں ھے پاؤں میں اور انگاروں کا سفر
بن وسیلے کے تو دیکھو موت کے یاروں کا سفر
چند سکوں کے عوض آدم کا بیٹا دیکھ تو
کرتا ہے بم گولیوں اور آگ کے دھاروں کا سفر
اپنی مٹی بیچ کر بھی ہاتھ کیا آتا ہے پھر
خطرہ ہر سو ہر طرف وحشت ہی اورخاروں کا سفر
کچھ نہیں معلوم ان کو کیا ہے دنیا کیا حیات
ان کو سکھلایا گیا بس موت کے غاروں کا سفر
ہیں ہزاروں ہی جواں اس قوم کے مارے گئے
کیسی کالی رات ھے بس کوچ ہے ساروں کا سفر
کتنا اچھا کھیل جاری موت کا ہے زیست سے
یاں پہ اپنوں کی قضا اور واں پہ اغیاروں کا سفر
آ کے اب سالار تو کیا ان پہ لکھے گا نطم
بے خلیق و بے مروت اور بیماروں کا سفر
More General Poetry
کل پھر عِید چلی گیؑ، وہ زِندان میں بیٹھا ہے کل پھر عِید چلی گیؑ، وہ زِندان میں بیٹھا ہے،
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL
" نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم " نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL
غزل ہم اپنے آپ کو اتم نہیں بنائیں گے
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
Khurshid Hassan
نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






