دی مِسِنگ لِنک
Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIعجب ہے ارتقا کے باب کا یہ ذہن افگن مسئلہ
سارے عناصر
اپنی پہلے سے تعین کردہ ہیئت میں
کہیں سے جمع ہوتے ہیں
پھر اُس کے بعد بے حد خاموشی سے
واپسی کے طے شدہ رستوں پہ اِک دن چل نکلتے ہیں
ازل سے زندگی کا دائرہ
یونہی سفر میں ہے
عناصر کا تناسب اپنے منظر کے تناظر میں بدلتا ہے
تلاشِ رزق میں گردان فصیلِ جسم سے باہر نکل جائے
کبھی سارا ہنر پنجوں میں در آئے
کبھی تلوے ہی جھڑ جائیں
کچھاریں اوربھٹ اور غار اور اسکائی سکریپر
زمیں پر پھیلتے جائیں
کبھی آہستہ آہستہ
کبھی یک لخت
اورگاہے بہ گاہے
دونوں صورت میں
(ابھی دانشوروں میں یہ سخن کچھ اختلافی ہے)
مگر شجرہ ہمیں مطلوب ہے
جس ذی حشم ذی شاں قبیلے کا
وہاں آ کر نسب نامہ
گھنے بالوں مناسب شکل و صورت قدوقامت تک
پہنچ کر گنگ ہو جاتا ہے
اُس کے بعد پھر بس ایک منزل
ایک لمحہ
ایک صدی
آنکھوں سے اوجھل ہے
حقیقت یہ ہے لیکن
اگر تھوڑی سی سچائی نظر میں گھول کر
اِک دن ذرا سا اپنے گرد و پیش کو
ہم دیکھ ڈالیں
تو یہ گم گشتہ حلقہ ایسے روشن ہو
کہ سب کھوئی ہُوئی کڑیاں
ہمارے ہاتھ آ جائیں
اگر تھوڑی سی جرأت
اور تنہائی میں آئینہ اُٹھا کر دیکھنے کا حوصلہ بھی ہو
تو شاید
اتنی زحمت بھی نہیں کرنی پڑے ہم کو
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






