دیئے جل رہے ہیں شام_ زندگی ہے کیا

Poet: Mobeen Nisar By: Mobeen Nisar, Islamabad

دیئے جل رہے ہیں شام_ زندگی ہے کیا
پروانے جل رہے ہیں اختتام_ زندگی ہے کیا

ابھی سحر ہوئی تھی ابھی تو جاگے تھے
بس یہی حسرتوں بھری زندگی ہے کیا

ترک_ تمنا نہ کر سکے زندگی ختم ہوئی
تمناوٴں سےجڑی پھر نئی زندگی ہے کیا

تلاش میں رہے اور تلاش ختم نہ ہوئی
جستجو میں بھٹکنا ہی زندگی ہے کیا

کچھ نہ کر سکے قدرت کے لکھے کے سوا
یہ عالم_ بے بسی ہی زندگی ہے کیا

پھیل رہی ہے آنکھوں میں مسلسل حیرانی
یہ حیرت_ ناتمام ہی زندگی ہے کیا

ٹوٹ کے بکھر گئی تسبح میرے ہاتھ سے
اعداد و شمار سے چلتی رہی زندگی ہے کیا

یہ خمار_ غم اور یہ لذت_ درد
اسی کیفیت کا نام ہی زندگی ہے کیا

 

Rate it:
Views: 1323
09 Sep, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL