دیا ہے جس نے وہاں تک خیال جانے دو
Poet: rabia naz By: rabia naz, karachiدیا ہے جس نے وہاں تک خیال جانے دو
مرے خیال میں ہے وہ کمال جانے دو
ہوں جتنی آج میں تنہا کبھی یہ حال نہ تھا
تھی زندگی تو ہمیشہ وبال جانے دو
یہ سال بھی تو مسرت کا کوئی سال نہیں
گزر گئے ہیں سب ہی زوال جانے دو
یہ فاصلے کبھی پل بھر میں مٹ بھی سکتے تھے
قریب آنا ترے یوں محال جانے دو
ہر ایک کرتا ہے احوال پہ مرے افسوس
غمِ فراق سے میں ایسے حال جانے دو
تجھے بھی رنج جو پہنچا کسی سے خوب ہوا
اذیت اور دلِ پر ملال جانے دو
غموں کے بحر میں اک موج بن کے بہتی ناز
تری جدائی کا غم کا ہے سال جانے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






