دیار عشق سے یوں تیرگی نکل جائے
Poet: فاروق درویش By: فاروق درویش, لاہوردیارِ عشق سے یوں تیرگی نکل جائے
جگر کی آگ سے دل کا چراغ جل جائے
نگاہ ِ فقر میں تصویرِ دو جہاں بدلے
جہاں میں ایک بھی ذرہ اگر بدل جائے
غریقِ بحر ہوئے سیلِ خود نمائی میں
بھنور میں ڈوبتی کشتی کہاں سنبھل جائے
قریبِ مرگ ہوا دل جو مبتلائے ہوس
شبابِ گل پہ کبھی خار پہ مچل جائے
یہ آرزو ہے تجھے دیکھیں بے حجاب مگر
ڈریں کہ وقت کا آئینہ نہ پگھل جائے
یہ احتیاط ہے لازم چمن کے پروردو
گلاب کوئی نہ پاؤں تلے مسل جائے
کرو جو خود کو فراموش تو خیال رہے
غضب کی چال نہ ظالم زمانہ چل جائے
چمک اٹھے گا سحر بن کے خونِ دل درویش
یہ بے چراغ شبِ خوں چکاں تو ڈھل جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






