دیوانہ سا اک لڑکا
Poet: Shabir Akhtar By: Shabir Akhtar, karachiدیوانہ سا اک لڑکا
اک حسیں پری پہ مرتا تھا
اس کی مانگ بھرنے کو
آکاش سے تارے توڑا کرتا تھا
سپنوں کی حسیں وادی میں
ہر پل اسے پکارا کرتا تھا
اداس سی اس کی اداؤں کو
شوخ و چنچل سی نگاہوں کو
اپنے پیار سے چوما کرتا تھا
رم جھم کرتی برساتوں میں
بکھری بکھری چاندنی راتوں میں
ہر دم اسے ڈھونڈا کرتا تھا
اس سے ملنے کی خواہش میں
نگر نگر گھوما کرتا تھا
کسی طرح اس سے ملاقات ہو
دن ہو چاہے سیاہ رات ہو
اک پل ہی سہی کچھ تو بات ہو
رات بھر بستر پر کروٹ بدلتے
بس یہی سوچا کرتا تھا
دیوانہ سا اک لڑکا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






