دیکھ زمانے سے
Poet: Mobeen Nisar By: Mobeen Nisar, Islamabadدیکھ زمانے سے کوئی شکایت نہیں
ہر موج کی قسمت ساحل تو نہیں
لطف ہجر کا کوئی ثانی ہی نہیں
سرود_منزل بھی سرود_آخر تو نہیں
تشنگی جاں بلب ہو بھی جائےاگر
سمندر بھی پیاس کا حاصل تو نہیں
بےچینی در و دیوار_دل میں قید ہے
اس زنداں میں دروازە بھی تو نہیں
روٹھ جاتی ہے طبعیت خود سے بھی
تیرے مذاج سے کوئی گلہ تو نہیں
عشق میں انسان کسی کام کا نہیں
ورنہ دام زلف سے کوئی مرتا تو نہیں
شب فراق کہیں اور چل میرے ساتھ
ہر جگہ ایسا گھور اندھیرا تو نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






