دیکھ زندگی اب میں تیرا برا نہیں چاہتا
Poet: ذیشان احمد By: ذیشان احمد, Khushabمیں اب تنہائیوں سے مزید لڑنا نہیں چاہتا
دیکھ زندگی اب میں تیرا برا نہیں چاہتا
ہوجائے کسی طور سفر تمام بس یہی چاہتا ہوں
میں باقی حیات میں کسی کا انتظار نہیں چاہتا
کبھی تو میرا ہاتھ پکڑ ، میرا غمگسار بن
میں یہ محبت کا غم ہر بار نہیں چاہتا
یہ سوچ لیا ہےکہ پھر سے محبت کروں گا
پر ایک ہی شخص سے بار بار نہیں چاہتا
تم نے تو رہا کر دیا تھا خود مجھے انکار سے
ایک ہی قلم، ایک ہی موضوع، اتنا وفادار نہیں چاہتا
میں تجھے کب ، کیسے یقیں دلا پاؤ گا
کوئی اور نئی مثال اس بار نہیں چاہتا
موضوعِ سخن ہی بدل ڈال تو اپنا ذیشان
اپنے لفظوں کا زوال اب کی بار نہیں چاہتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






