دیکھو اپنی آنکھوں میں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیرے جیسا کون دِکھائی دیتا ہے----- دیکھو اپنی آنکھوں میں
میرے جیسا کون سنائی دیتا ہے ----- دیکھو اپنی باتوں میں
میرے جیسا کون سجھائی دیتا ہے ---- دیکھو اپنی راتوں میں
میرے جیسا کون دہائی دیتا ہے ---- دیکھوں اپنی یادوں میں
آئینے کے سامنے جب آتے ہو
آئینے سے آنکھیں جب ملاتے ہو
میرے جیسا کوئی دکھائی دیتا ہے ----- دیکھو اپنی آنکھوں میں
سنتے ہو جب شعر کوئی دیوانوں سے
گیت کوئی جب سنتے ہو پروانوں سے
میرے جیسا کوئی سنائی دیتا ہے ----- دیکھو اپنی باتوں میں
رات کی چادر تان کے دن سو جاتا ہے
چاند گگن پہ تاروں کے ہمراہ آتا ہے
میرے جیسا کون سجھائی دیتا ہے ----- دیکھو اپنی راتوں میں
ایسے میں تم کس کو چاہا کرتے ہو
ایسے میں تم کس کو سوچا کرتے ہو
میرے جیسا کون دہائی دیتا ہے ----- دیکھو اپنی یادوں میں
میرے جیسا کون دِکھائی دیتا ہے----- دیکھو اپنی آنکھوں میں
میرے جیسا کون سنائی دیتا ہے ----- دیکھو اپنی باتوں میں
میرے جیسا کون سجھائی دیتا ہے ---- دیکھو اپنی راتوں میں
میرے جیسا کون دہائی دیتا ہے ---- دیکھوں اپنی یادوں میں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






