دے گیا باغباں کو ہمیشہ کا غم
Poet: Qasim Baba By: Qasim Baba, Slough Londonدے گیا باغباں کو ہمیشہ کا غم
پھول کھلنے سےپہلے جو مرجھا گیا
بن کے خوشبو رہا ساتھ کچھ دیر وە
پھر چمن میں خزاوٴں کو بکھرا گیا
وصل کے ایک قطرے کے بدلے مجھے
وحشتوں کے سمندر وە دکھلا گیا
وقتِ رخصت وە جب میری باہوں میں تھا
درد کی آندھیوں سے میں ٹکرا گیا
خواب ہے خواب ہے اور کچھ بھی نہیں
زندگی کی حقیقت وە بتلا گیا
اُس کے قدموں کو چومے گی خُلدِبریں
راحتیں ذندگی کی جو ٹھکرا گیا
اُس کو خوشبو لکھوں یا لکھوں پھول میں
آسمان و زمیں کو جو مہکا گیا
مجھ کو جنت ملے گی تیرےنام کی
روزِ محشر مجھے جو پکارا گیا
خلد میں بس کمی تھی اے آدم تیری
اس لیے تجھ کو شاید بلایا گیا
لے گیا ساتھ اپنے وە میرا جہاں
کب وە دنیا سے قاسم ہے تنہا گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







