ذرا آہستہ سے ....... آگہی کی دستک دو
Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahoreمرے طفل خابوں کو ذرا سہلانے دو مجھ کو
ابھی رتجگوں کی زود و زیاں کی
جھولی سے اٹھ کر
حقیقتوں کے آغوش میں سوئے ہیں
ذرادھیرے
کوئی چاپ نہ ہو ماضی کی
کوئی کھٹکا نہ ہو فردا کا
بس خوشگمانی کی خاموشی ہو سرہانے
کہیں ایسا نا ہو جائے
میرے معصوم پگلے خابوں کی
پھر سے نیند اچٹ جائے
اور میں
ان بلکتے سسکتے خابوں کو سینے سے لگا کر
بیکراں !!!! مثل ہاجرہ
سکوں و متانت کی خاطر
کوئی زم زم نہ کر پاؤں
لے کر ان مردار خابوں کو
تابوت آنکھوں میں
صرف بین کر جاؤں
ذرا آہستہ سے.
آگہی کی دستک دو
سنو
ذرا آہستہ آہستہ ............ آہستہ آہستہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






