ذرا پلکیں اٹھا دو
Poet: By: Hukhan, karachiجب بھی اس سے کہا تھوڑا ہی سہی مگر مسکرادو
ذرا کائنات کو اور بھی حسین بنا دو
جب بھی اس سے کہا ذرا پلکیں اٹھا دو
کچھ تو جینا ہمیں بھی سِکھا دو
دل سو رہا ہے جانے کب سے اسے ہی جگادو
حسن کی خیرات ہی سہی ہمارے کشکول میں ڈال دو
شمع بن جاؤ تم پروانہ ہمیں بنا دو
ادھوری ہے شام اسے مکمل بنادو
بے خواب سی ہیں آنکھیں انہیں خواب ہی دکھا دو
اماوس کی رات ہے ذرا مسکرا کےاسے دلہن بنا دو
خان کب سے ہے ادھورا اسے خوش قسمت بنادو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






