ذو قافیتین

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

اِسی لِیئے کوئی جادُو اثر نہِیں کرتا
گُمان دِل میں مِرے دوست گھر نہِیں کرتا

جُھکا ہی رہتا ہے گشتی پہ اپنے شام و سحر
پِسر کو بولتا ہوں کام کر، نہِیں کرتا

فقِیر جان کے محبُوب پیار بِھیک میں دے
میں اپنے آپ کو یُوں در بدر نہِیں کرتا

ہُؤا ہے یُوں بھی کہ حالات خُود کُشی کے تھے
اِرادہ کر کے چلا بھی، مگر نہِیں کرتا

کڑے مقام پہ جُوں لوگ رُخ بدلتے ہیں
دُعا قُبول خُدا بھی اگر نہِیں کرتا؟

ہُؤا جُنوں سے عقِیدت کے سُرخرو ورنہ
معارکہ یہ محبّت کا سر نہِیں کرتا

پڑا جو وقت گِھسٹنا پڑے گا اُس کو بھی
وہ ایک شخص جو پیدل سفر نہِیں کرتا

پتہ نہ تھا کہ کٹھن مرحلے بھی آئیں گے
وگرنہ عہدِ وفا عُمر بھر نہِیں کرتا

رشِیدؔ کرتی حُکُومت اگر پذِیرائی
کوئی بھی سودۂِ عِلم و ہُنر نہِیں کرتا
 

Rate it:
Views: 444
21 Nov, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL