ذکر کتنا اونچا ہوگا زبان سے نکل کر
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIذکر کتنا اونچا ہوگا زبان سے نکل کر
جو لکھتا ہے قلم میرے دل وجان سے نکل کر
جب سے تم نے ترک تعلق کیا ہے ہم سے
گویا افسانے میں آگئے ہو عنوان سے نکل کر
مانا کہ ہم مسافر شہر غریب کے ہیں
جانے کیوں جلے ہیں تم پر پہچان سے نکل کر
اے شگفتہ پیارے لوگو زمانے سے دور رہنا
شگوفے خاک پر پڑے ہیں گلستاں سے نکل کر
یہ دل کی بات شاید اچانک آگئی تھی
لفظ لڑکھڑائے کتنے زبان سے نکل کر
تم ڈھونڈتے پھرو گے بہاروں کی رنگ وبو کو
بلبل کا حال دیکھو گلستان سے نکل کر
الفت کی آگ جانے کیوں بھجتی نہیں کہیں بھی
ہم جلے ہیں کتنی جلدی آشیاں سے نکل کر
میدان حشر اسی زمیں پر ہی سجے گا اشتیاق
فیصلہ سنتے ہی گر پڑو گے آسمان سے نکل کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






