ذہن کے گوشوں میں بند ماضی

Poet: Habibullah khial By: habibullah khial, islamabad

مجھے پھر یاد آتا ہے کئی قصے پرانے
وہ مہکتے دن اور مدہم
ذہن کے گوشوں میں بند ماضی
کہیں اب بھی وہ زندہ ہیں
گرم سانسیں کہیں
دور راستے کی دھول کی مانند
بلاتی ہیں مجھے پھر سے
مسافر، عدم کی راہی
مجھے احساس ہونے کا
دلاتی ہیں۔
وہی پت جھڑ، وہی راستے
وہی پھر عدم سے دوچار
درختوں کے تنوں پر پھڑ پھڑاتے خشک پتے،
اور بے خیالی ، جھیل کا ساحل
وہ آبگینہ تیری آنکھوں کا بھر جانا
لرزتے ہونٹ سے بہتے
وہ ٹھنڈ لفظوں کی گرمائش
وہ بہتا بادہ تر، اور غموں کا آتشیں گھونٹ
اور وہ مخمور آنکھیں
مجھے پھر یاد آتی ہیں
رواج زندگی کا معاملہ بھی کچھ عجب سا ہے
کہیں دو پل گراں لگنا کہیں صدیوں کا کم پڑنا
کہیں پھر دور تک چل کر پلٹنا الوداع کہنا
گرجنا فکر کے بادل، محبت بارشیں کرنا
اور غموں کے سیل میں
بہہ کر ختم ہونا امر ہونا
مجھے پھر یاد آتی ہیں۔

Rate it:
Views: 712
03 Oct, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL