رابطے
Poet: Amjad Islam Amjad By: Shazia Hafeez, Attockہاں ابھی سوچ لے
فیصلوں کا سفر
لفظ کی نرم چھاؤں میں کٹتا نہیں
اور سُن
فیصلوں کی ندامت سے تکلیف دہ کوئی بھی دکھ نہیں
جتنے خدشے مرے ساتھ چلنے میں ہیں
اس دوراہے پہ رُک
اور انہیں اپنی آنکھوں میں ترتیب دے
جان لے
وقت کے دشت بے برگ میں واپسی کیلئے کوئی رستہ نہیں
منظروں کا نیا پن پرانی رتوں کیلئے موت ہے
جو ہوا میرے جملے کے آغاز میں
تیرے بالوں کو چھوتے ہوئے چل رہی تھی اسی وقت سے
مر چکی ہے کہ اب
اس کا ہونا نہ ہونا تیرے واسطے ایک ہے
اور تجھ کو پتہ ہے کسی چیز کی
زندگی اس تعلق سے ہے جو کسی ذات کے رابطے سے بنے
ہاں یہی وقت ہے
رابطے اور تعلق کے معنی سمجھ
جتنے خدشے میرے ساتھ چلنے ہیں
اس دوراہے پہ رک
اور انہیں اپنی آنکھوں میں ترتیب دے
کہ ابھی تیرے ہاتھوں کا ہر رابطہ
تیرے ہاتھوں میں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






