رابطے محبت کے
Poet: Maria riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadرابطے محبت کے ختم ہونے سے بھی نہیں ہوتے
یہ ایسی زنجیر ہے جو ٹوٹنے سے بھی نہ ٹوٹے
اندیکھی منزل: انجانے راستے بے نام فاصلے
یہ ایسی مسافت ہے مسافر تھکنے سے بھی نہ تھکے
بے نام افسانے ادھوری کہانی: نا مکمل شاعری
یہ ایسے دیوان ہیں پورے ہونے سے بھی نہیں ہوتے
انسوؤں کا سمندر ہے: رسوائیوں کا گھر ہے. بدنامی اس کا نام ہے
یہ ایسی بے وفائی ہے وفا کرنے سے بھی وفا میں نہ بدلے
تیز آندھی ہے کالا طوفان ہے. نہ ختم ہونے والی بارش ہے
یہ ایسا سیلاب ہے روکنے سے بھی نہ روکے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






