رات

Poet: فرحین ناز طارق By: Farheen Naz Tariq, Chakwal

ان سیاہ یخ بستہ راتوں میں
تنہائی اک واحد ساتھی ہے
جو دل لٹانے آئے تھے
وہ جاں لے کر رخصت ہوئے
جہاں سفر کا آغاز ہوا تھا
وہی پھر انجام ہوا ہے
آہستہ سے کچھ کہنے کو
شنگرفی لب وا ہوئے تھے
اور پل بھر میں سب
رشتے ناطے تباہ ہوئے ہیں
اب بولائے بولائے سے
نجانے کہاں پھرتے ہیں
ان تاریک راتوں کی وحشت
اپنی جگہ پر قائم ہے
مگر جو قدم بڑھے تھے پذیرائی کو
اور ساتھی بنے تھے جو شام کو
رات کے سناٹے میں ڈھل چکے ہیں
آس کے جگنو مر چکے ہیں
رشتے ناطے سب جل چکے ہیں
آنکھوں میں نئی امید بسائے
پنچھی تو کب کے اڑ چکے ہیں
اور ہم
خود کو اسی دشت میں سنگسار کیے
کب کے لاشے دفنا چکے ہیں
پھولوں کی چاہ میں خود کو
قبرستان بنا چکے ہیں
اب آزمانے کو کیا باقی رہا ہے
مہمان تو سارے جا چکے ہیں۔لله

Rate it:
Views: 996
16 Feb, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL