رات کی تاریکیوں میں پیار کی شمع لئے
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanرات کی تاریکیوں میں پیار کی شمع لئے
ڈھونڈتا رہتا ہوں میں اک آستاں کا راستہ
ٹھوکریں کھاتا ہوں ، گرتا ہوں ، سنبھل جاتا ہوں میں
چھوڑتا پھر بھی نہیں ہوں کوئے جاں کا راستہ
پوچھتا پھرتا ہوں ، بلبل سے کلی ، گل سے میں
کوئی بتلاتا نہیں ہے ، گلستاں کا راستہ
اس بھروسے پر گزارے جا رہا ہوں زیست کو
ہوگا کبھی تو ختم یہ آہ و فغاں کا راستہ
کب تلک انجان راہوں پر چلے گا تو زریں
آجا کہ دکھلاؤں تجھے تیرے جہاں کا راستہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






