رات کے سائے میں آتا ہے، چلا جاتا ہے

Poet: سید بدیع الرحمان By: سید بدیع الرحمان, Skardu

رات کے سائے میں آتا ہے، چلا جاتا ہے
خواب آنکھوں میں سجاتا ہے، چلا جاتا ہے

یاد بن کر وہ میرے دل میں بسا رہتا ہے
دھوپ میں سائے سا آتا ہے، چلا جاتا ہے

درد کی راہ میں کب تک اسے آواز دوں؟
وہ میری سانس میں آتا ہے، چلا جاتا ہے

چاندنی رات میں مہکے ہوئے جذبات لیے
وہ چراغوں کو جلاتا ہے، چلا جاتا ہے

کوئی آہٹ، کوئی خوشبو، کوئی جلتی یادیں
دھوپ میں سایا بناتا ہے، چلا جاتا ہے

بدیع اشکوں میں سمندر سا چھپا ہے لیکن
وہ مجھے پیاسا ہی رکھتا ہے، چلا جاتا ہے

دل کی وادی میں بکھرتی ہیں کئی آہیں بدیع
وہ سکون دے کے رُلاتا ہے، چلا جاتا ہے

Rate it:
Views: 185
31 Jan, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL