رات ھوئی تو یاد تیری بستر پہ شکن چھوڑ گئی

Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobar

رات ھوئی تو یاد تیری بستر پہ شکن چھوڑ گئی
اور کچھ نہ مل سکا تو ہلکی سی چبھن چھوڑ گئی

راہ دشوار تھی کانٹوں کا سفر بھی ساتھ رہا
جسم شل سا رہا پاؤں پہ تھکن چھوڑ گئی

خزاں آئی تو فضائیں بھی تھیں غمناک ھوئیں
پھول مرجھائے تھے اور اجڑا چمن چھوڑ گئی

مسکراتے چہرے کو غموں کے سائے دے کر
ہنستی آنکھوں کو رلانے کا فن چھوڑ گئی

تیرے ماضی کی نشانی بھی نہ کوئی ساتھ رہی
اجڑے شہروں میں گمنامی کا وطن چھوڑ گئی

داغ پھر ایسا دیا اس نے مجھے جدائی کا اپنا
کورے کاغذ پہ یوں شعرؤں کا سخن چھوڑ گئی

Rate it:
Views: 1199
09 Dec, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL