راز وشمہ بتا ماؤف تری محفل میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامیں تو اک نام ہوں محزوف تری محفل میں
ذکر اب میرا ہے موقوف تری محفل میں
لوگ ہیں اور بھی ، سب سے ہے الگ میرا رقیب
بس کہ رہتا ہے وہ موصوف تری محفل میں
اپنے کم ہونے کا احساس ستاتا ہے تجھے
لوگ آتے ہیں جو معروف تری محفل میں
کر رہے تھے دبے لفظوں میں کسی کی غیبت
سارے شرکا تھے یوں مصروف تری محفل میں
ہائے قاصد نے اسے کھول کے خود پڑھ ڈالا
ایک خط بھیجا تھا ملفوف تری محفل میں
مال و زر کاش کہ تقدیر میں لکھوا سکتی
نام ہوتا مرا معروف تری محفل میں
دیکھ کر غیر کے انداز تری محفل میں
راز وشمہ بتا ماؤف تری محفل میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






