راستے سے ہٹ گئی ہوں سب ستارے دیکھ کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiراستے سے ہٹ گئی ہوں سب ستارے دیکھ کر
زندگی کی آنکھ میں پنہاں اشارے دیکھ کر
اب کوئی اہلِ سخن ملتا نہیں ہے شہر میں
مضطرب ہوتا ہے شاعر استعارے دیکھ کر
اپنا بچپن آ گیا ہے یاد مجھ کو دوستو!
آج گلیوں میں کئی اڑتے غبارے دیکھ کر
دکھ کی چادر اوڑھ کر سوتی تو ہوں تنہائی میں
دل مگر دکھتا ہے دنیا کے سہارے دیکھ کر
کٹ رہے ہیں رفتہ رفتہ میری بھی خوشیوں کے پر
لوگ دنیا کی گھپا میں غم کے مارے دیکھ کر
کیا پتہ تھا اب تلاطم کا مجھے ہے سامنا
خوش ہوئی تھی روبرو وشمہ کنارے دیکھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






