راہ جفا پہ چلے تھے منزل وفا ڈھونڈنے
Poet: ayesh By: ayesh, Peshawarراہ جفا پہ چلے تھے منزل وفا ڈھونڈنے
چاندکی بانہوں میں اپناٹھکانہ ڈھونڈنے
حیات کےفلک پہ بنتےخواہشوں کے دھنک
نکلےپلکوں پہ جلمل ستاروں میں سیارہ ڈھونڈنے
کشتئی زیست طوفان غم میں ڈوب چکی ھے
لگاملاح موجوں میں جینےکاسہاراڈھونڈنے
جگنوئےمحبت کوپکڑنےدورتلک بھاگتےگئے
شمع رات بھرجلتی رہی الفت پروانہ ڈھونڈنے
کسی بھی نگرجاکہ میں آبادہو جاؤنگی
نکلوں گی جب بھی تیراآسراڈھونڈنے
دشت دل کےفسانہ دردوالم میں
آہ نکل پڑی خوشیاں بےپناہ ڈھونڈنے
صحراسےچلاآیاھےگلستاں کاپتہ لیکر
پھررہاھےاب عائش کودیوانہ ڈھونڈنے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






