راہ میں تقدیریں ہیں

Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore

 راہ میں حائل تقدیریں ہیں
راہ میں حائلْ۔۔۔۔۔ تقدیریں ہیں
یا میری اپنی ۔۔۔۔۔۔تدبیریں ہیں
ہجر کی کالی لمبی۔۔۔۔۔۔۔ راتیں
وصل کے خواب کی تعبیریں ہیں
دل بھی شیش محل ہے۔ پیارے
اِس میں تیری ۔۔۔تصویریں ہیں
فرحتِ دل بھی راحتِ جاں بھی
حُسن کی کیا کیا۔۔۔۔ تفسیریں ہیں
پاسِ ادب بھی پاسِ وفا۔۔۔ بھی
عشق پہ کیسی۔۔۔۔ زنجیریں ہیں
شورشِ دل بھی ضبطِ فغاں۔ بھی
عشق کے حق میں تعزیریں ہیں
تم بھی کسی سے پیار نہ ۔۔۔کرنا
پیار کی اُلٹی۔۔۔۔۔ تأثیریں ہیں
اب میرا سرمایہءِ جاں۔۔۔۔ تو
تیرے ہاتھ کی ۔۔تحریریں ہیں
تم کو دیکھا تم کو۔۔۔۔۔۔۔ چاہا
یہ سب میری ۔۔تقصیریں ہیں
کچھ کر کے دِکھاؤ شیخ جی ۔ورنہ
بے معنی یہ تقریریں۔۔۔ہیں
پھر سے چلے ہو اُس کی گلی میں
کیا مرنے کی ۔۔۔تدبیریں ہیں
 

Rate it:
Views: 606
09 Dec, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL