راہ میں تقدیریں ہیں
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore راہ میں حائل تقدیریں ہیں
راہ میں حائلْ۔۔۔۔۔ تقدیریں ہیں
یا میری اپنی ۔۔۔۔۔۔تدبیریں ہیں
ہجر کی کالی لمبی۔۔۔۔۔۔۔ راتیں
وصل کے خواب کی تعبیریں ہیں
دل بھی شیش محل ہے۔ پیارے
اِس میں تیری ۔۔۔تصویریں ہیں
فرحتِ دل بھی راحتِ جاں بھی
حُسن کی کیا کیا۔۔۔۔ تفسیریں ہیں
پاسِ ادب بھی پاسِ وفا۔۔۔ بھی
عشق پہ کیسی۔۔۔۔ زنجیریں ہیں
شورشِ دل بھی ضبطِ فغاں۔ بھی
عشق کے حق میں تعزیریں ہیں
تم بھی کسی سے پیار نہ ۔۔۔کرنا
پیار کی اُلٹی۔۔۔۔۔ تأثیریں ہیں
اب میرا سرمایہءِ جاں۔۔۔۔ تو
تیرے ہاتھ کی ۔۔تحریریں ہیں
تم کو دیکھا تم کو۔۔۔۔۔۔۔ چاہا
یہ سب میری ۔۔تقصیریں ہیں
کچھ کر کے دِکھاؤ شیخ جی ۔ورنہ
بے معنی یہ تقریریں۔۔۔ہیں
پھر سے چلے ہو اُس کی گلی میں
کیا مرنے کی ۔۔۔تدبیریں ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






