راہ میں جب بھی چلنے لگتے ہیں
Poet: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے By: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے , Nottinghamراہ میں جب بھی چلنے لگتے ہیں
عشق کے منظر بدلنے لگتے ہیں
یاد آتی ہے مجھے جب آپ کی
اشک آنکھوں سے چھلکنے لگتے ہیں
مفلسوں کو دیکھ کر اکثر یہاں
لوگ اپنا رخ بدلنے لگتے ہیں
دشمن جاں سن کے میری گفتگو
موم کے جیسے پگھلنے لگتے ہیں
دیکھ کر معراج پہیم عشق کی
حسن کے تیور بدلنے لگتے ہیں
بارشیں ہوتی ہیں جب بھی یہاں
گلستان میں پھول کھلنے لگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







