راہ چاو پیار کا دیکھ رہا ہوں

Poet: mohammed masood By: mohammed masood , nottingham

راہ چاو پیار کا دیکھ رہا ہوں
پہرا ہے وہاں روتی ہیں آنکھیں

میں نے لگائی اپنے سکون واسطے
بدلےالٹا دکھ مصیبت سہتی ہیں آنکھیں

ترستی ہیں اَس کے دیدار کے واسطے یہاں
ایک پلک نہیں کرتی ہیں آرام چین آنکھیں

ہر وقت ہر پل رونا اَس کی یاد میں
یہ بے چاری بے قصور ہیں آنکھیں

چلتا نہیں ہے کوئی زور میرا یہاں
روتی ہیں روتی جاتی ہیں آنکھیں

راہ پیار میں مل جائیں اگر تارے
تارے گنتے رات گنواتی ہیں آنکھیں

کب آۓ گا دنیا کا چاند ایہاں اوہاں
چکور کی طرح گبھراتی ہیں آنکھیں

جلتی بجھتی آگ کی طرح ایہاں اوہاں
درشن چاہ پیار کا جب پاتی ہیں آنکھیں

چاو پیار کی خوشی دیکھ کر یہ
دیکھ کر خوشی ہو تی حیران ہیں آنکھیں

نشہ حَسن کا پی کے مست ہوتی ہیں
پھول نرگس کے دونوں بچھاتی ہیں آنکھیں

لاکھوں عاشق بے ہوش ہو جاتے ہیں کیوں
جب کریں جدھر بھی ذرا بھی دھیان آنکھیں

مسعود میں ہمیشہ ایک چیز کہوں بارہا
کہ ہاں بلکہ لٹیاتی سارا جہان ہیں آنکھیں

Rate it:
Views: 438
18 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL