رحمت کیوں بنا دی زحمت
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreبابا مجھے پڑھنا ہے ، بہت زیادہ پڑھنا ہے
اور پھر دوسروں کو پڑھنا ہے
پڑھ لیا جتنا پڑھنا تھا بیٹی
اب ماں سے گھر داری سیکھو ، پانچ چھ جماعتیں بڑی ہیں ہوتیں
بابا کیا آپ چاہتے ہیں ، میں بھی ماں کی طرح جاہل رہوں
جیسے آپ انہیں جاہل کہتے ہیں کہ
تمہاری ماں کو کیا پتا وہ تو جاہل ہے
آسے تو صرف کھانا بنانا آتا ہے
کیا میں بھی یہ الفاظ ساری عمر سُنتی رہوں
میری کوئی عزت نہ کرے
عزت کی فکر نہ کرو ، میں تمہیں اتنا جہیز دوں گا کہ ۔۔۔۔۔۔
بس کریں بابا ماں بھی اپنے وقت کے حساب سے بڑا جہیز لائی تھی
اُس جہیز نے اُسے کتنی عزت دلائی تھی
یہ مجھ سے بہتر تو آپ ہیں جانتے
مجھے سونے چاندی کا نہیں اعلیٰ تعلیم کا زیور چاہیے
مجھے پڑھنا ہے بابا مجھے اور پڑھنے دو
نہیں تو میں پاگل ہو جاؤں گی
اور آپ کے کسی کام نہ آؤں گی
میں تو سب کے کام آنا چاہتی ہوں ، خود پڑھ کر سب کو پڑھانا چاہتی ہوں
بابا مجھے پڑھنے دو
میرے پاؤں پر سر نہ رکھو میری پیاری بیٹی
میں خود مجبور ہوں تم سے زیادہ مجبور
گھر کے باہر کے حالات مجھے خوف زدہ ہیں کیے ہوئے
ایک عزت تو ہے ہمارے پاس ، اُسے داؤ پر کیسے لگادوں
یہ مرد کا معاشرہ ہے بیٹی، یہاں مرد جو چاہے کرے
لیکن عورت پر لگا ذرا سا الزام ہی اس کی زندگی کر دیتا ہے حرام
یہ نہ سمجھ ہم تم سے محبت نہیں کرتے ،
بیٹوں سے بڑھ کر تمہارا خیا ل ہیں رکھتے
میں کیسے تمہیں تنہا باہر پڑھنے کیلئے بھیجوں
اور پھر ضروری تو نہیں علم کیلئے گھر سے باہر جانا ،
گھر میں رہ کر بھی یہ دولت حاصل کر ہوسکتی
پہلے تو صرف کتابیں تھی علم حاصل کرنے کا ذریعہ
گھر بیٹھ کر علم حاصل کرنے کے اب تو ہیں ہزاروں طریقے
میں تمہیں سب کچھ گھر میں لادوں گا
تم دن رات پڑھتی رہو، میں تمہیں کچھ نہ کہوں گا
بابا آپ نے تو حل نکال لیا لیکن میرا دل مطمعن نہیں ہوا
یہ تو صرف میرے مسلے کاحل ہے، باقی لڑکیوں کا کیا ہوگا
کیا ہم ہمیشہ ہی مرد سے ڈر کر گھر بیٹھی رہیں گی
کیا آپ مرد اپنے آپ کو کبھی ٹھیک نہیں کریں گے
آپ مرد اگر ہر کسی کی بہن بیٹی کو اپنی بہن بیٹی سمجھیں
تو سارے مسلے خو د ہی حل ہوجائیں اور ہم ہر خوف سے آزاد ہو جائیں
اس طرح کچھ کہنے سے کوئی ٹھیک نہیں ہو سکتا بیٹی
یہ کام بھی تم لڑکیوں کو ہی کرنا ہے اگر ماحول بدلنا ہے
اپنے چھوٹے بھائیوں کو ابھی سے عورت کی عزت کرنا سکھانی ہے
وہ دوسروں کی بہن کو بھی اپنی ہی بہن سمجھے
اسلام میں عورت کا کیا مقام ہے انہیں بتانا ہے
ہمارے حضورؐ پاک عورت کے ساتھ جیسا اچھا سلوک کرتے تھے
وہ میری پیاری بیٹی ، ابھی سے تم سب بہنوں نے بھائیوں کو بتانا ہے
اپنے چھوٹے بھائیوں کی اچھی تربیت کردو،
شاید انہیں دیکھ کر بڑے بھائی بھی کچھ بہتر ہوجائیں
تم اپنا کا م جاری رکھنا ، ہمت نہ ہارنا
کتابیں میں تمہیں لادوں گا ، اجالا تم بہنیں اپنے بھائیوں کے دِلوں میں کردینا
اگر تم نے انہیں سچا مرد ِ مومن بنا دیا پکا اچھا مسلمان بنادیا
تو مجھے یقین ہے
تم نہ سہی ، تمہارے بعد آنے والی بیٹیاں
گھر سے باہر تنہا نکل کر اعلیٰ تعلیم ضرور حاصل کریں گی اور
دنیا میں اپنا اور تمہارا نام روشن کریں گی
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






