رخ سے جب تُم نقاب اُٹھاتے ہو
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالرخ سے جب تُم نقاب اُٹھاتے ہو
ہر نظر دید مے پلاتے ہو
اب نہیں تاب اور رسہنے کی
جانتے بھی کیوں ظلم ڈھاتے ہو
شہر در شہر تیرا چرچا ہے
دید ہر اِک کو ہی کراتے ہو؟
خُوں رُلانا کیا کوئی عادت ہے؟
جب نہیں ہے تو کیوں رُلاتے ہو؟
جب کوئی شک نہیں ہے مجنوں پر
پھر کیوں عاشق کو آزماتے ہو
عشق کی آگ مار ڈالے گی
میں بجھاتا ہوں تم لگاتے ہو
بن تمھارے کہیں قرار نہیں
بے طرح مجھ کو یاد آتے ہو
تھک گیا ہوں فراق میں مسکان
لوٹ آؤ کیوں اور تھکاتے ہو
اب تو ہر کوئی پوچھتا ہے جنید
پیاسی آنکھوں کو کیوں بہاتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






