رخ کہانی کا اچانک تو نہ موڑا ہوتا
Poet: Ali Tasif By: علی تاصف, karachiرخ کہانی کا اچانک تو نہ موڑا ہوتا
مر ہی سکتے ہمیں اس حال میں چھوڑا ہوتا
دل نے ہر چیز ہمیشہ ہی مکمل چاہی
درد بھی کیسے گوارہ اسے تھوڑا ہوتا
اب جو ٹوٹے ہیں تو آنکھوں میں بہت چھبتے ہیں
کاش خوابوں سے تعلق ہی نہ جوڑا ہوتا
سیل اشکوں کا بہا کر تجھے لے جاتا کہیں
ہم نے دامن کو اگر یار نچوڑا ہوتا
تیرے ماتھے کو جو دیکھوں تو خیال آتا ہے
کوئی تارہ ہی فلک سے کبھی توڑا ہوتا
تیری رسوائی کا ہوتا نہ اگر ہم کو خیال
بارہا سر تیری دہلیز پہ پھوڑا ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






