رسم الفت سے کچھ حالتیں دخیل بن گئی
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiرسم الفت سے کچھ حالتیں دخیل بن گئی
اُس ناقص کی پھر دھڑکنیں علیل بن گئی
ویسے تو خردسالی میں کیا کیا نہیں سنا
ایسی کئی تقلیدیں ناقابل تعمیل بن گئی
کچھ دن تو ان کا سرور سا ہوتا تھا
پھر رعنایاں بڑھتے بڑھتے نخیل بن گئی
خواب جستجو کے پاس کروٹیں ہی رہی تھی
میری یادیں تو رات کی رتیل بن گئی
جس کی سوچ سے سوچ کتراتا تھا کبھی
وہیں حسرتیں پھر میری ہی مخیل بن گئی
ہر شخص میں یہاں عجب خودی بستی ہے
ایسے سنتوشؔ اپنی زندگی بھی بخیل بن گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






