رسم وفاء
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachiجب تصور میں کوئی بزم سجائی میں نے
خاص مہمان تیری ذات بنائی میں نے
ایک پل بھی کبھی دل سے نہ بھلایا تجھ کو
عشق میں تیرے یونہی عمر گنوائی میں نے
تو نے جان مانگی ہے لے وہ بھی نچھاور تجھ پہ
حکم جلاد کو دے گردن ہے جھکائی میں نے
تجھ کو پھولوں سے گلہ خار بھری شاخ کا تھا
تیری تو راہ میں پلکیں تھیں بچھائی میں نے
تیرے دامن پہ کوئی حرفو الزام بھی آنے نہ دیا
اپنے سر لے لی ہے ذلت و تباہی میں نے
تو نے ہر نقش میرا پیروں سے روندا لیکن
تیری تصویر نہ اس دل سے مٹائی میں نے
بس تیرے خیالوں کی دنیا میں ہوں کھویا رہتا
اسطرح رسم وفاء تجھ سے نبھائی میں نے
میری معصوم محبت کو تو رسواء تو نہ کر
تیری عیار شرارت ہے چھپائی میں نے
سوختہ جان تو پہلے ہی تھا اشہر لیکن
عشق کی آگ میں اب روح ہے جلائی میں نے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






