رسم یہ ہے رواج یہ ہے
Poet: بنت لیاقت By: بنت لیاقت, Sargodhaرسم یہ ہے رواج یہ ہے
دستور یہ ہے سماج یہ ہے
جو ہم سے کچھ کچھ بنا کے رکھے
انہی سے اپنی بگاڑ رکھنا مزاج یہ ہے
ہم ہی کو کہتے ہیں سر پھرے ہو
ہم ہی سےسارے گِلے ہیں تم کو
آؤ تم کو اپنی سنائیں
یہ نایاب پتھر تم کو دیکھائیں
کبھی یہ دل تھا
پھر یوں ہوا کہ
محبتوں نے گلے لگایا
موسموں نے ورغلایا
اک مجنوں نے سر چڑھایا
پھر وہ مجنوں دل تک آیا
ہم نے یہ دل اسے تھمایا
پھر یوں ہوا کہ
جب کبھی بھی وہ مجنوں ملے تو
یہ دل یوں دھڑکے کہ دنیا بھی سن لے
سن کہ دھڑکن میں ڈر گئی تھی
یہ انداز اس کو بھلا لگا تھا
کہنے لگا وہ گلے لگا کر
تم کچھ پاگل پاگل سی ہو
اس کی ان باتوں میں
ڈر اپنا میں بھول گئی تھی
چند دن ایسے گزرے ہی تھے
دل کچھ خوش خوش رہتا تھا
پھول مجھے یوں بھانے لگے
باغوں کی طرف مجھے بلانے لگے
پھولوں کا اک باغ ملا جو
اس باغ کے صدقے واری تھی میں
دل پھر سے ویسے ہی دھڑکا تھا
یہ تو وہی احساس تھا
لگا مجھے وہ کچھ پاس ہی تھا
جو مڑ کے دیکھا بہت پاس تھا وہ
اور کہ رہا تھا..کچھ پاگل پاگل لگتی ہو تم
ہاں وہ کہ رہا تھا اور
مخاطب اسکے اک نئی کلی تھی
آؤ تم کو اپنی سنائیں
یہ نایاب پتھر تم کو دیکھائیں
کبھی یہ دل تھا...
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






