رسوائیوں سے ڈرتے تھے

Poet: UA By: UA, Lahore

صرف تیرے لئے گزرتے تھے
جب تیرے شہر سے گزرتے تھے

ایک تمہارے دیکھنے کے لئے
خود کو ہم بے نقاب کرتے تھے

کیوں بھلا تم سے دور ہو جاتے
ہم نہ رسوائیوں سے ڈرتے تھے

ان کو چاہا ہے زندگی کی طرح
جن کی چاہت میں روز مرتے تھے

ان کی چاہت کا یہ بھرم ہے کہ
ہم اکیلے ہی سب سے لڑتے تھے

اپنی چاپت کا اعتبار اور کیا ہوگا
جفاؤں کو بھی انداز وفا کرتے تھے

کس لئے خود کو کو سجا کر رکھیں
ہم تو صرف تیرے لئے سنورتے تھے

تمہارے جانے سے روپ یوں بےروپ ہوا
آئینہ دیکھتے اور خود سے ڈرتے تھے

تم شام و سحر میری نگاہوں میں رہو
ہم تو رات دن یہی دعا کرتے تھے

اب تمہیں پایا ہے تو ہمیں معلوم ہوا
تم سے نہیں خود سے وفا کرتے تھے

Rate it:
Views: 767
22 Jan, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL