رشتہ مصیبتوں کا کوئی نانیوں سے ہے
Poet: Dr. Riaz Ahmed By: Dr. Riaz Ahmed, Karachi.اِس کا نہیں تعلق کوئی بانیوں سے ہے
ملکی تنزلی میری نادانیوں سے ہے
آزادی کی بے حرمتی، لگتا ہے دیکھ کر
اِنہیں نہیں پتا لیا قربانیوں سے ہے
بدیسی شہریت ہے تو خوشیوں کے ساتھ ساتھ
نہیں واسطہ اب ملکی پریشانیوں سے ہے
پینگیں بڑھا رہے ہیں اب مخلوط نوجوان
کیا فائدہ وطن کو ان جوانیوں سے ہے
راجا راجا کہہ کے ماں نے جس کو بگاڑا
رابطہ میں رہتا اب وہ رانیوں سے ہے
مکتبوں میں لڑکوں کو مشکل ہے دیکھنا
گھرا ہوا ہر ایک اپنی جانیوں سے ہے
اس کو کسی نے چھیڑا کو تھانے چلی گئی
سابقہ اُس کا پڑا اب زانیوں سے ہے
حکمراں آزاد ، بے لگام ملازم
برباد ہر ادارہ ہی من مانیوں سے ہے
عیاشیاں حکام کے گھروں کی لونڈیاں
عوام کا رشتہ کوئی، آسانیوں سے ہے
انصاف اور قانون کا اٹوٹ اِک رشتہ
اصلاح سے نہیں ہے بے ایمانیوں سے ہے
وطن کی گاڑی کو تو بس گھسیٹ رہے ہیں
نہیں واسطہ ٹوٹی ہوئی کمانیوں سے ہے
کس طرح ترتیب سے چلیں سواریاں
رستہ بھرا جو خواجہ کی دیوانیوں سے ہے
مشکل میں یاد آجاتی ہے ہر ایک کو نانی
رشتہ مصیبتوں کا کوئی نانیوں سے ہے
دو بم گِرا کہ پھر بھی وہ امن کا ٹھیکیدار
رشتہ تیرا ریاض، کیا ، جاپانیوں سے ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






