رفتار زمانہ کا ہم کو اندازہ بھی بہت ہے
Poet: M. Habibulla Rajput By: Prof. Dr. M. Habibullah Rajput, Karachiرفتار زمانہ کا ہم کو اندازہ بھی بہت ہے
مگر یہ سست رو ہمسفر پیارا بھی بہت ہے
زیست کی تنہا راہوں پر چلتے ہوئے
ایک چاہنے والے کا سہارا بھی بہت ہے
یہ اجر جنوں نہیں تو اور کیا ہے
کچھ کھویا نہیں پایا بھی بہت ہے
جان لے کر رہے گی جفا تیری صنم
ہے جرم ہمارا کہ تجھے چاہا بھی بہت ہے
شب ہجر میں تڑپتا ہوں بسمل کی طرح
زخم نیا ہے اور گہرا بھی بہت ہے
جو نقش بنایا تھا ہاتھوں سے اپنے
نا مٹا دل سے مٹایا بھی بہت ہے
خمار عشق سے ہے قائم آبرو زیست
پل بھر کے لیے اس میں جینا بھی بہت ہے
اب تو موت بھی زندگی نظر آتی ہے حبیب
کہ ہم نے زندگی کو جانا بھی بہت ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






