رفتہ رفتہ

Poet: UA By: UA, Lahore

رفتہ رفتہ میرے اعصاب پہ وہ چھانے لگا ہے
میرے وجود میری روح میں سمانے لگا ہے

میری شب کے اجالوں میں میرے دن کے سویروں میں
وہ بن بلائے میری زندگی میں آنے لگا ہے

میرے دیار کی گلیاں اسے پہچان رہی ہیں
کیوں میرا شہر چھوڑ کر وہ کہیں جانے لگا ہے

وہ مجھے جس قدر خود سے جدا کرنا چاہے
اسی قدر وہ میرے دل کو اور بھانے لگا ہے

وہ خواب ہے کہ تخیل فسانہ ہے کہ حق
جو مجھ میں رہ کے مجھے اور یاد آنے لگا ہے

میں نے چاہا کہ مجھ سے میری بات کرتا رہے
وہ مجھے اور ہی قصہ کوئی سنانے لگا ہے

میرے رنج و ملال پہ وہ درد آشنا عظمٰی
کسی ناآشنا کی طرح مسکرانے لگا ہے

Rate it:
Views: 645
26 Jan, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL