رفعتوں کے سائے جدا ہو گئے ہیں

Poet: Khalid Pervez By: Khallid Pervez, Sokin Wind, Pasrur, Sialkot

رفعتوں کے سائے جدا ہو گئے ہیں
نجانے کس کے لئے فدا ہو گئے ہیں

نہیں چاہت ویراں ہو گئی ہے الفت
خدایا کیسے انساں پیدا ہو گئے ہیں

ہر سو منڈلا رہی ہے غم شناسائی
نہیں سماعتیں شجر بےصدا ہو گئے ہیں

ارماں دل گئے آنکھوں سے نیند گئی
رات دن بھی شاید خفا ہو گئے ہیں

جذبے جواں نہیں رائیگاں ہیں کوششیں
ساز سارے نغمے رسوا ہو گئے ہیں

سب تقاضے ہیں زندگی کے ادھورے
طفل مکتب درس سے بےنوا ہو گئے ہیں

کسے کہیں کہ کوں ہے کسی کا خالد پرویز
ٹوٹے آئینے میں عکس بےانتہا ہو گئے ہیں

Rate it:
Views: 505
31 Oct, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL