رو برو برسوں
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہجگائی ہم نے پہلُو میں وفا کی جُستجُو برسوں
بھٹکنا ہی پڑا درویشوں کو سو کُو بہ کُو برسوں
مقیّد کوئی گُلشن میں ہے پنچھی مُضطرب، گرچہ
"لگایا ڈھیر پُھولوں کا قفس کے رُوبرُو برسوں"
بہار آتے ہی پُھولوں نے اُسے معتُوب ٹھہرایا
کہ جِس نے بیل بُوٹوں کو پِلایا ہے لہُو برسوں
ہمیں شوقِ شہادت تھا سو کی ہے جادہ پیمائی
رہا درد و الم کا اِک تسلسُل چار سُو برسوں
کِسی کا رنج اپنانے سے چہرہ جگمگائے گا
رکھی گی بد نُما چہرے کو نیکی خُوبرُو برسوں
ابھی دست و گریباں ہیں قبِیلے دَورِ جِدّت میں
رہا کرتے جہالت میں تھے جیسے دُو بہ دُو برسوں
کبھی رنگِین دُنیا کی طرف دیکھا نہِیں مُڑ کر
ہمیں حلقہ کِیے بیٹھی رہی ہے آرزُو برسوں
ارے او غم بھلا کِس زُعم میں آنکھیں دِکھاتا ہے
فنا ہو جائے گی دُنیا رہیں گے ہم، نہ تُو برسوں
عداوت کا ہماری جِس جگہ وہ ذِکر چھیڑے گا
سراہے جائیں گے حسرتؔ عدُو پر ہو گی تُھو برسوں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






