رو لینا
Poet: سعدیہ اعجاز By: Sadia Ijaz Hussain (IH), Lahore, University of Educationکبھی مقتل سے نکلو تو ذرا جی بھر کے رو لینا
کبھی انصاف سے اپنا آنچل پرو لینا
ہمار ے سامنے آ کر ہمارے رو برو ہونا
کبھی آ کے, کبھی جا کے, کبھی ددر پے رو لینا
سنا ہے آج تم نے کسی سے شکوہ کیا ہمارا
ذرا پاس آ کے تم جی بھر کے رو لینا
اداس آنکھوں سے بھا لینا جی بھر کے دریا تم
کبھی ہسنا ,کبھی رونا ,کبھی اداس, ہو جانا
ہے انسان کی فطرت رنگ بدلنے کی
کبھی جو سچ بولوں ,تو تم بھی بدل جانا
نہیں دستور دنیا میں سچ سہنے کا سعدیہؔ
ہے اجازت تمھے تم پردے میں اپنا منہ چھپا لینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






