روح کی بے چینی
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreاس کے جانے پر بے چینی کیوں ہے
خواہش ہے یہ دل میں کیسی
اتنی چاہت اس کے لیے دل میں کیوں ہے
پرواہ نہیں اس کو یہ جتلایا تھا
مگر دل کو صرف اس کی پرواہ کیوں ہے
وہ کچھ نہیں میرا نہ کوئی تعلق اس سے
پھر بھی اس سے اتنی اپنایت کس لیے
دیکھ کر اس کو روح کی بے چینی
چھو لے وہ ایک بار ایسی آرزو کیوں ہے
بھیڑ ہے لوگوں کی آس پاس
دل میں میرے تنہائی کیوں
جا رہا وہ واپس اپنی منزل۔ کو
روکنے کی اس کو تمنا کیوں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






