روشنی زنجیر ہوتی ہی نہیں
Poet: بلال شیخ By: Bilal Sheikh, Lahoreروشنی زنجیر ہوتی ہی نہیں
خواب کی تعمیر ہوتی ہی نہیں
اُس نے آنے میں ہمیشہ دیر کی
مجھ سے کیوں تاخیر ہوتی ہی نہیں
میں ہمیشہ دیکھتا ہوں بس اُسے
روبرو تصویر ہوتی ہی نہیں
نت نئے بس غم اُٹھاتی ہے مگر
زندگی دل گیر ہوتی ہی نہیں
جھوٹ کی بنیاد رکھ کر سامنے
عشق کی تعمیر ہوتی ہی نہیں
میں اُسے تسخیر کرتا ہوں مگر
ہاتھ میں شمشیر ہوتی ہی نہیں
آخرش دونوں بچھڑتے ہیں بلال
رانجھنا کی ہیر ہوتی ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






